ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / داعشی کا 200سے زاید عراقی خواتین کی آبرو ریزی کا اعتراف

داعشی کا 200سے زاید عراقی خواتین کی آبرو ریزی کا اعتراف

Tue, 21 Feb 2017 13:16:11    S.O. News Service

داعشی امیرکی طرف سے جنگجوؤں کو عصمت ریزی قتل کی کھلی اجازت
بغداد،20؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عراق میں کرد فورسز کے ہاں گرفتار 21سالہ ایک داعشی دہشت گرد نے خواتین کی آبرو ریزی کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق داعشی دہشت گرد عمار حسین نے 200سے زائد عراقی خواتین کی عصمت ریزی کی اور سیکڑوں افراد کے قتل کا مرتکب ہوا ہے۔ مگر ان تمام جرائم کے ارتکاب کے باوجود وہ شرمندہ نہیں۔ عراق میں کرد فورسز کے ہاں گذشتہ اکتوبر سے گرفتار داعشی جنگجو اکیس سالہ عمار حسین نے خبر رساں اداریرائٹرز سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ دو سو سے زاید عراقی عورتوں کی آبرو ریزی کا مرتکب ہوا ہے اور اس اقدام پر اسے کوئی شرمندگی نہیں۔

کرد فورسز نے کئی ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد حال ہی میں داعشی جنگجو تک صحافیو اور نامہ نگاروں کی رسائی کی اجازت دی تھی۔ عمار حسین کو عراق کے شہر کرکوک سے اس وقت حراست میں لیا تھا، جب عراقی فوج نے داعش کو شکست دے کر شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے داعشی شدت پسند نے کہا کہ وہ دو سو سے زاید عورتوں کی آبرو ریزی کے باوجود اپنے کیے پر شرمندہ نہیں۔

کرد فورسز کے ہاں قید داعشی جنگجو نے شدت پسند گروپ (داعش)کے کئی دوسرے پراسرار جرائم سے بھی پردہ اٹھایا۔ عمار حسین نے کہا کہ تنظیم کے مقامی امیر اور عسکری قائدین کی طرف سے تمام جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ بلا جھجگ خواتین کی آبرو ریزی کریں۔ انہیں اس مجرمانہ فعل کی کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم یزیدی قبیلے کی جس عورت کی عزت سے چاہئیں کھیلیں۔ اس کے علاوہ لڑائی کے دوران داعشی یزیدی قبیلے کے علاوہ دوسری عورتوں کو پکڑ کر لاتے اور ان کی آبرو ریزی کرتے۔داعشی عمار حسین نے کہا کہ خواتین کی آبرو ریزی ایک فطری امرتھا اور سب جنگجو ایسا ہی کرتے تھے۔ اس نے بھی دو سو سے زاید عورتوں کی عزت پامال کی۔

داعشی سے پوچھا گیا کہ وہ خواتین کی آبرو ریزی کیسے کرتے تو اس کا کہنا تھا کہ لڑائی کیدوران وہ یزیدیوں کے گھروں میں جاتے اور وہاں پر موجود مردوں کو قتل یا گرفتار کرتے اور عورتوں کی کھلے عام آبرو ریزی کی جاتی۔ داعشی دہشت گردوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی بعض کم عمر بچیاں تھیں۔حسین نے بتایا کہ سنہ 2013ء میں داعش میں شمولیت کے بعد اس نے کم سے کم 500 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ جس شخص کو قتل کرنے کی ضرورت ہوتی ہم اس کا سر تن سے جدا کردیتے۔

داعشی دہشت گرد نے کہا کہ تنظیم کے امراء نے ان کی تربیت اس انداز میں کی کہ انہیں کسی شخص کو قتل یا عورتوں کی عصمت دری پر ذرا بھی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ البتہ اسے شروع میں لوگو کو قتل کرنے میں مشکل پیش آتی۔ ہمیں قیدیوں کو قتل کرنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ آہستہ ٓآہستہ میں بھی قتل کا عادی ہوگیا اور کسی شخص کی جان لینے کی پریشانی جاتی رہی۔داعشی نے بتایا کہ ہم سات، آٹھ یا دس افراد کو ایک ہی وقت میں موت کے گھاٹ اتارتے۔ بعض اوقات زیادہ لوگ پکڑے جاتے تو تیس اور چالیس کے گروپ کو اجتماعی طور پر قتل کردیا جاتا۔ ہم قیدیوں کو صحراء میں لے جاتے اور وہاں انہیں موت کی نیند سلا دیتے۔عمار حسین سے انٹرویو کرنے والے صحافیوں نے کرد عسکری عہدیداروں سے بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمار حسین قتل اور عصمت ریزی کے انتہائی سنگین جرائم کا مرتکب ہوا ہے مگر اس نے قتل اور آبرو ریزی کے کتنے جرائم کا ارتکاب کیا وہ نہیں جانتے۔


Share: